سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیے پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے
وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیں جیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں زر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہے جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے زندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر جانے کس بات پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیل درد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم