سپیکرز
صباگل کا پیش کردہ کلام
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا سمجھو وہاں پھل دار شجر کوئی نہیں ہے وہ صحن کہ جس میں کوئی پتھر نہیں گرتا اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی کا اس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی اتنا تو کبھی کوئی سخن ور نہیں گرتا حیراں ہے کئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی الاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سن لے بے بازوئے حیدر در خیبر نہیں گرتا قائم ہے قتیلؔ اب یہ مرے سر کے ستوں پر بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں کِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کی ذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں یقیناً اُن کی سوچوں پر بڑھاپہ چھا چکا ہو گا اُلجھ کر رہ گئے جو لوگ ماضی کے حوالوں میں بھڑکتے تھے کبھی جن میں گلابی آگ کے شعلے بس اب تو راکھ باقی رہ گئی ہے ان پیالوں میں جنھیں ہم دیکھ کر مسجد کا رستہ بھُول جاتے تھے خدا معلوم ہوں گے وہ صنم اب کن شوالوں میں وہ جب بھی رُو برُو آیا، نیا چہرہ کوئی لایا اِک ایسا شخص بھی شامل تھا اپنے ملنے والوں میں ہمیشہ گفتگو کر کے وہ شرمندہ ہُوا مجھ سے ملے اس کو سدا میرے جواب اپنے سوالوں میں کھُلی آنکھوں قتیلؔ اس کو بھلا کب دیکھ سکتا ہُوں ملاقات اس سے اب ہوتی ہے خوابوں میں خیالوں میں