قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا سمجھو وہاں پھل دار شجر کوئی نہیں ہے وہ صحن کہ جس میں کوئی پتھر نہیں گرتا اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی کا اس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی اتنا تو کبھی کوئی سخن ور نہیں گرتا حیراں ہے کئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی الاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سن لے بے بازوئے حیدر در خیبر نہیں گرتا قائم ہے قتیلؔ اب یہ مرے سر کے ستوں پر بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا

— قتیل شفائی

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں کِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کی ذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں یقیناً اُن کی سوچوں پر بڑھاپہ چھا چکا ہو گا اُلجھ کر رہ گئے جو لوگ ماضی کے حوالوں میں بھڑکتے تھے کبھی جن میں گلابی آگ کے شعلے بس اب تو راکھ باقی رہ گئی ہے ان پیالوں میں جنھیں ہم دیکھ کر مسجد کا رستہ بھُول جاتے تھے خدا معلوم ہوں گے وہ صنم اب کن شوالوں میں وہ جب بھی رُو برُو آیا، نیا چہرہ کوئی لایا اِک ایسا شخص بھی شامل تھا اپنے ملنے والوں میں ہمیشہ گفتگو کر کے وہ شرمندہ ہُوا مجھ سے ملے اس کو سدا میرے جواب اپنے سوالوں میں کھُلی آنکھوں قتیلؔ اس کو بھلا کب دیکھ سکتا ہُوں ملاقات اس سے اب ہوتی ہے خوابوں میں خیالوں میں

— قتیل شفائی