سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے اگر وفا پہ بھروسہ رہے نہ دنیا کو تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے بجھا دیا ہے نصیبوں نے میرے پیار کا چاند کوئی دیا مری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے
مرحلہ رات کا جب آئے گا
مرحلہ رات کا جب آئے گا جسم سائے کو ترس جائے گا چل پڑی رسم جو کج فہمی کی بات کیا پھر کوئی کر پائے گا سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں لفظ مفہوم سے کترائے گا اعتبار اس کا ہمیشہ کرنا وہ تو جھوٹی بھی قسم کھائے گا تو نہ ہوگی تو پھر اے شام فراق کون آ کر ہمیں بہلائے گا ہم اسے یاد بہت آئیں گے جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا کائنات اس کی مری ذات میں ہے مجھ کو کھو کر وہ کسے پائے گا نہ رہے جب وہ بھلے دن بھی قتیلؔ یہ زمانہ بھی گزر جائے گا