قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے اگر وفا پہ بھروسہ رہے نہ دنیا کو تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے بجھا دیا ہے نصیبوں نے میرے پیار کا چاند کوئی دیا مری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے

— قتیل شفائی

مرحلہ رات کا جب آئے گا

مرحلہ رات کا جب آئے گا جسم سائے کو ترس جائے گا چل پڑی رسم جو کج فہمی کی بات کیا پھر کوئی کر پائے گا سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں لفظ مفہوم سے کترائے گا اعتبار اس کا ہمیشہ کرنا وہ تو جھوٹی بھی قسم کھائے گا تو نہ ہوگی تو پھر اے شام فراق کون آ کر ہمیں بہلائے گا ہم اسے یاد بہت آئیں گے جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا کائنات اس کی مری ذات میں ہے مجھ کو کھو کر وہ کسے پائے گا نہ رہے جب وہ بھلے دن بھی قتیلؔ یہ زمانہ بھی گزر جائے گا

— قتیل شفائی