قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

عروج فیاض کا پیش کردہ کلام

شاعری سچ بولتی ہے

لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب مری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے یہ بھی کیا بات کہ چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں گر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروں جب کسی بات کو دنیا کی نظر تولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے اس فکر میں کاٹیں کئی راتیں کئی دن مرے شعروں میں ترا نام نہ آئے لیکن جب تری سانس مری سانس میں رس گھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرے جلووں کا ہے پر تری مری ایک ایک غزل تو مرے جسم کا سایہ ہے تو کترا کے نہ چل پردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے

— قتیل شفائی