قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

امید صبح کا پیش کردہ کلام

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے

بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے اٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دے یہ وصل کی رات ہے خدارا نقاب چہرے سے مت ہٹاؤ تمہارے چہرے کا یہ اجالا سحر سے پہلے سحر نہ کر دے قسم جسے ضبط غم کی دے کر اٹھا دیا اپنے در سے تو نے کہیں وہ دیوانہ عمر اپنی بغیر تیرے بسر نہ کر دے بڑے مزے سے میں پی رہا ہوں مری طرف تم ابھی نہ دیکھو مجھے یہ ڈر ہے نظر تمہاری شراب کو بے اثر نہ کر دے ستایا جس کو ہمیشہ تو نے سدا اکیلا جو چھپ کے رویا وہ دل‌ جلا اپنے آنسوؤں سے تمہارا دامن بھی تر نہ کر دے قتیلؔ یہ وصل کے زمانے حسین بھی ہیں طویل بھی ہیں مگر لگا ہے یہ دل کو دھڑکا انہیں کوئی مختصر نہ کر دے

— قتیل شفائی