قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں‌سے چرایا ہے تجھے پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں‌میں چراغ جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے تجھ کو چھو لوں‌تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا !

— قتیل شفائی