سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا آئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سے روشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا ڈالی ہے اس خوش فہمی نے عادت مجھ کو سونے کی نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا لوگو میرے ساتھ چلو تم جو کچھ ہے وہ آگے ہے پیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر کا ہو جائے گا دن میں ہنس کر ملنے والے چہرے صاف بتاتے ہیں ایک بھیانک سپنا مجھ کو ساری رات ڈرائے گا میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دل ناداں تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہم سایہ نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیلؔ ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا