قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا آئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سے روشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا ڈالی ہے اس خوش فہمی نے عادت مجھ کو سونے کی نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا لوگو میرے ساتھ چلو تم جو کچھ ہے وہ آگے ہے پیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر کا ہو جائے گا دن میں ہنس کر ملنے والے چہرے صاف بتاتے ہیں ایک بھیانک سپنا مجھ کو ساری رات ڈرائے گا میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

— قتیل شفائی

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دل ناداں تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہم سایہ نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیلؔ ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا

— قتیل شفائی