قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

خوشی کا پیش کردہ کلام

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھے میری سب روداد اِسی عنوان میں ہے کب سننے دیتی ہے شور سمندر کا پانی کی اِک بوند جو میرے کان میں ہے بن سوچے سمجھے تو ثیق نہیں کرتا کفر وہ شامل جو میرے ایمان میں ہے ٹانک دو اس میں اِک مصنوعی تتلی بھی کاغذ کا جو گلدستہ گلدان میں ہے حجرے میں گر کوئی بات ہوئی تو کیا تھوڑا ساشیطان تو ہرانسان میں ہے شوق تو یہ ہے آج کے فاتح کہلائیں جنگ ابھی تک ماضی کے میدان میں ہے پچھلی تحریروں کو بھول کے اے شاعر تیرا نیا قصیدہ کس کی شان میں ہے جس کے لیے میں غزلیں کہتا رہا قتیل اُس کا سارا حسن میرے دیوان میں ہے

— قتیل شفائی