قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے

صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے لیکن ترے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں ہے یہ بھی کوئی بات ہے آخر دور ہی دور رہیں متوالے ہرجائی ہے چاند کا جوبن یا پنچھی کو پیار نہیں ہے ایک ذرا سا دل ہے جس کو توڑ کے بھی تم جا سکتے ہو یہ سونے کا طوق نہیں یہ چاندی کی دیوار نہیں ہے ملاحوں نے ساحل ساحل موجوں کی توہین تو کر دی لیکن پھر بھی کوئی بھنور تک جانے کو تیار نہیں ہے پھر بھی وہی سیلاب حوادث جانے دو اے ساحل والو یا اس بار سفینہ ڈوبا یا اس کے منجدھار نہیں ہے قید قفس کے بعد کرے گا قید گلستاں کون گوارا اب بھی وہی زنجیریں ہیں گو پہلی سی جھنکار نہیں ہے

— قتیل شفائی