قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیلؔ اس کے لیے کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح

— قتیل شفائی

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

— قتیل شفائی