قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

سوہا سلطان کا پیش کردہ کلام

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

— قتیل شفائی