قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

نگاہ بسمل کا پیش کردہ کلام

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے اب کے ساون میں بھی میں ترستا رہا گنگناتے ہوئے پانیوں کے لیے جب بھی نیکی بدی کا پڑا رَن کوئی جو بھی ناصح تھا وہ پیٹھ دکھلا گیا سہہ گئے ہم ہی محرومیوں کے ستم رہ گئے ہم ہی قربانیوں کے لیے کیا خبرکیاخیال آیا صیاد کو، اس کے دل میں بھی اک نرم گوشہ بنا اب رہائی کے پیغام آنے لگے تیرے خوددار زندانیوں کے لیے جھونپڑوں میں سسکتی ہوئی بیویو! ہوں گے خالی تمھارے لیے وہ محل جو محل تاجداروں نے بنوائے ہیں اپنی پیاری مہارانیوں کے لیے چاہے کوئی بھی ہو، کیوں خوشامد کریں، عاشقوں سے تو یہ کام ہوتا نہیں کوئی شاعر ہی بلوا لو دربار سے، گل رحو ںکی ثنا خوانیوں کے لیے جوش پر ہے طبیعت قتیل آجکل سامنے جو بھی آیا وہ بہہ جائے گا یہ ندی اک زمانے سے مشہور ہے اپنی منہ زور طغانیوں کے لیے

— قتیل شفائی