سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں مجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکن ایک مُٹّھی میں ، مِرے خواب کہاں آتے ہیں مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا! ورنہ ،صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں میری بے درد نِگاہوں میں، اگر بُھولے سے! نیند آئی بھی تو ، اب خواب کہاں آتے ہیں تنہا رہتا ہُوں میں دِن بھر ،بَھری دُنیا میں سعید! دِن بُرے ہوں، تو پھر احباب کہاں آتے ہیں