قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

فرار کی پہلی رات

نوجوان کون ہے تو آیا ہے کس نگری سے نام کیا ہے ترا کیا کام ہے آخر مجھ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مناسب نہیں آنا تیرا تو نے کس زعم میں اس وقت پکارا ہے مجھے تو نے کیا سوچ کے دستک دی ہے آج کی شب مرے سوئے ہوئے دروازے پر نوجواں کون ہے تو نوجواں جو بھی ہے تو فیصلہ سوچ سمجھ کر یہ کیا ہے میں نے لاکھ دستک کوئی دے آج کی رات گھر کا دروازہ کسی پر بھی نہ اب کھولوں گا چاہے مہمان ہو یا کوئی ہوا کا جھونکا سچ تو یہ ہے کہ مجھے اب تو ان تازہ ہواؤں سے بھی ڈر لگتا ہے نوجواں ٹھیک سہی تو مجھے جانتا ہے میں بھی تجھے جانتا ہوں تھی ملاقات تری اور مری آج سے برسوں پہلے لیکن اب اس کا یہ مطلب تو نہیں تو سمجھ کر مجھے ہم عمر اپنا جب بھی چاہے مرے دروازے پہ دے کر دستک رت جگے مل کے منانے کے لئے مجھ کو بلانے آ جائے جا میاں اور کہیں مجھ کو پریشان نہ کر

— قتیل شفائی