سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش بوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہو دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگا مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
بتاؤ کیا خریدو گے
بتاؤ کیا خریدو گے؟ جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ رنگا رنگ تقریریں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے قلم کے معجزے، فکرو نظر کی شوخ تصویریں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قشقے یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے
ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے اب تو آ جا کہ تجھے یاد کیا ہے میں نے آسکی تیری جدائی نہ کبھی راس مجھے تجھ سے بچھڑا تو یہ ہونے لگا احساس مجھے اپنے ہاتھوں سے کوئی زہر پیا ہے میں نے گنگناتی ہے وفا روح میں رم جھم کی طرح سامنے اپنے کھڑا ہوں کسی مجرم کی طرح آج تو شرم سے ڈھانپ لیا ہے میں نے جو بھی شکوہ ہے بھلانا ہی پڑے گا تجھکو اک نہ اک روز تو آنا ہی پڑے کا تجھکو دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے میں نے