قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش بوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہو دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگا مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں

— قتیل شفائی

بتاؤ کیا خریدو گے

بتاؤ کیا خریدو گے؟ جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ رنگا رنگ تقریریں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے قلم کے معجزے، فکرو نظر کی شوخ تصویریں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قشقے یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

— قتیل شفائی

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے

ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے اب تو آ جا کہ تجھے یاد کیا ہے میں نے آسکی تیری جدائی نہ کبھی راس مجھے تجھ سے بچھڑا تو یہ ہونے لگا احساس مجھے اپنے ہاتھوں سے کوئی زہر پیا ہے میں نے گنگناتی ہے وفا روح میں رم جھم کی طرح سامنے اپنے کھڑا ہوں کسی مجرم کی طرح آج تو شرم سے ڈھانپ لیا ہے میں نے جو بھی شکوہ ہے بھلانا ہی پڑے گا تجھکو اک نہ اک روز تو آنا ہی پڑے کا تجھکو دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے میں نے

— قتیل شفائی