سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں اُس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہُوں لو خریدو اِک نظر کے مول مجھ کو اپنی قیمت میں رعایت کر رہا ہُوں لی ہے ضبط نے مجھ سے اجازت اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہا ہوں چِھن گیا مُلکِ جوانی بھی تو کیا غم اب بھی یادوں پر حکومت کر رہا ہوں کوئی بھی غم اُس کو لوٹایا نہیں ہے یوں امانت میں خیانت کر رہا ہوں اُس نے تو بس اک ذرا سی بات چھیڑی میں وضاحت پر وضاحت کر رہا ہوں عشق کر کے آپ بھی بن جائیں انساں شیخ صاحب کو نصیحت کر رہا ہوں عاشقی طوفان گریہ چاہتی ہے اور میں آہوں پر قناعت کر رہا ہوں آسماں جو شخص ہے سب کی نظر میں اُس کو چھو لینے کی جُرات کر رہا ہوں میں نے دیکھا ہے قتیل اُ س کا سراپا میں کہاں ذکرِ قیامت کر رہا ہوں