قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے

جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے اپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خوشبو آئے مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تکتے رہنا رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے پیار نے ہم میں کوئی فرق نہ چھوڑا باقی جھیل میں عکس تو میرا ہو، نظر تُو آئے جب کبھی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کو میری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازو آئے جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہو گی روشن مجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جگنو آئے کتنا حساس میری آس کا سنّاٹا ہے کہ خموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگرو آئے مجھ سے ملنے کو سرِشام کوئی سایہ سا تیرے آنگن سے چلے اور لبِ جو آئے اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔ وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے

— قتیل شفائی

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے وہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پر یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو تو مرے دل کے دھڑکنے کا گلا کرتا ہے رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں جیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے جب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزول صرف اک پھول کواڑوں میں کھلا کرتا ہے کون کافر تجھے الزام تغافل دے گا جو بھی کرتا ہے محبت سے گلا کرتا ہے لوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیلؔ شب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے

— قتیل شفائی