کلامِ شاعر
- 01 نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
- 02 پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
- 03 آنکھ سے دل میں آنے والا
- 04 انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر
- 05 عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
- 06 کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا
- 07 دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
- 08 دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
- 09 قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
- 10 مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
- 11 بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
- 12 تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
- 13 پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
- 14 اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
- 15 وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
- 16 گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
- 17 کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
- 18 مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
- 19 تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
- 20 کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
- 21 اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
- 22 آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
- 23 کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا
- 24 جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
- 25 کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
- 26 اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
- 27 نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
- 28 مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
- 29 وہ سر بام کب نہیں آتا
- 30 بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
- 31 معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے