کلامِ شاعر
- 01 وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیں
- 02 عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نے
- 03 دشوار ہے اس انجمن آرا کو سمجھنا
- 04 وہی بیباکیٔ عشاق ہے درکار اب بھی
- 05 مآل اہل زمیں بر سر زمیں آتا
- 06 گزر گئی ہے ابھی ساعت گزشتہ بھی
- 07 ہم پس وہم و گماں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
- 08 ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے
- 09 جو اشک برسا رہے ہیں صاحب
- 10 نظر آ رہے ہیں جو تنہا سے ہم
- 11 زمیں پر آسماں کب تک رہے گا
- 12 جو کل حیران تھے ان کو پریشاں کر کے چھوڑوں گا
- 13 شام اپنی بے مزا جاتی ہے روز
- 14 میں وہ درخت ہوں کھاتا ہے جو بھی پھل میرے
- 15 پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا
- 16 ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے
- 17 کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں
- 18 سنی ہے چاپ بہت وقت کے گزرنے کی
- 19 گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے
- 20 کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے
- 21 فائدہ کیا ہے ہمیں اور خسارہ کیا ہے
- 22 بجھ گیا رات وہ ستارا بھی
- 23 تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں
- 24 دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا
- 25 میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے
- 26 اور تو خیر کیا رہ گیا
- 27 کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہ