کلامِ شاعر
- 01 وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
- 02 واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
- 03 اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
- 04 رنج اور رنج بھی تنہائی کا
- 05 میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
- 06 کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
- 07 خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم
- 08 کر کے بیمار دی دوا تو نے
- 09 کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
- 10 کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے
- 11 جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
- 12 جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز
- 13 عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض
- 14 حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے
- 15 حقیقت محرم اسرار سے پوچھ
- 16 حق وفا کے جو ہم جتانے لگے
- 17 ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر
- 18 ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
- 19 گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
- 20 گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
- 21 غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
- 22 دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
- 23 دل کو درد آشنا کیا تو نے
- 24 دھوم تھی اپنی پارسائی کی
- 25 بری اور بھلی سب گزر جائے گی
- 26 بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
- 27 اب وہ اگلا سا التفات نہیں
- 28 آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم