کلامِ شاعر
- 01 دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
- 02 گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
- 03 ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
- 04 حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
- 05 امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
- 06 جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
- 07 تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
- 08 تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
- 09 کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
- 10 مری مستی کے افسانے رہیں گے
- 11 بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے
- 12 بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
- 13 ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
- 14 بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
- 15 کس ناز کس انداز سے تم ہائے چلو ہو
- 16 منہ فقیروں سے نہ پھیرا چاہئے
- 17 یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
- 18 سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
- 19 بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے
- 20 بڑی طَلب تھی ، بڑا اِنتظار ،دیکھو تو
- 21 کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے
- 22 زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ
- 23 یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے
- 24 مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا
- 25 ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
- 26 مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
- 27 وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟
- 28 میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
- 29 مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں
- 30 اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
- 31 یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ
- 32 کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
- 33 تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے