کلامِ شاعر
- 01 یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
- 02 یہ زمیں کس قدر سجائی گئی
- 03 یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
- 04 تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو
- 05 توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے
- 06 تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں
- 07 طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
- 08 تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
- 09 شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے
- 10 سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
- 11 سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے
- 12 سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے
- 13 صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے
- 14 پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے
- 15 پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے
- 16 نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیے
- 17 محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
- 18 ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی
- 19 میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا
- 20 میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
- 21 میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے
- 22 لب پہ پابندی تو ہے احساس پر پہرا تو ہے
- 23 کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گی
- 24 خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے
- 25 کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
- 26 جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں
- 27 جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
- 28 اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریں
- 29 اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
- 30 ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں
- 31 ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیں
- 32 ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے
- 33 ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوس
- 34 گلشن گلشن پھول
- 35 فن جو نادار تک نہیں پہنچا
- 36 دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ
- 37 دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے
- 38 دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
- 39 دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
- 40 چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے
- 41 بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے
- 42 بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے
- 43 بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم
- 44 برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جا
- 45 بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلے
- 46 عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی
- 47 اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں
- 48 اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیں
- 49 اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے
- 50 اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو