کلامِ شاعر
- 01 شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
- 02 ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر
- 03 کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے
- 04 ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
- 05 اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا
- 06 تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
- 07 درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے
- 08 آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا
- 09 کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا
- 10 راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
- 11 تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے
- 12 سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
- 13 مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
- 14 بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
- 15 کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا
- 16 جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
- 17 اداس شام دلِ سوگوار تنہائی
- 18 آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر
- 19 ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی
- 20 آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں
- 21 نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا
- 22 فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
- 23 پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلے
- 24 مل گئی آپ کو فرصت کیسے
- 25 اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
- 26 کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
- 27 جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا
- 28 بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی