کلامِ شاعر
- 01 اوس سے بھرا گلاس
- 02 دریا
- 03 سیل آب
- 04 روپوش ہونے کا دن
- 05 کھڑکی نامہ
- 06 ثمر فروش
- 07 مقام سخت پر نگاہ
- 08 گھوڑے کی موت
- 09 قالین
- 10 آبنائے
- 11 ناشتے کی میز پر
- 12 دبلی پتلی
- 13 اوس سے بھرا گلاس
- 14 اندھراتا
- 15 چیت کا پھول
- 16 بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑا
- 17 یہ رنگ اٹھا کے مخفی خزانے سے آیا ہوں
- 18 کسی تہہ سے ابھرتا جا رہا ہوں
- 19 دم آمدن ہے اس کا دم واپسیں ہے میرا
- 20 کنارے توڑتا منہ زور پانی دیکھنا ہو
- 21 ایک دنیا اک جہاں تسخیر کرنے واسطے
- 22 پھول کے واسطے دعا کیجے
- 23 جو مشکل تھی اسے آساں بناتا جا رہا تھا
- 24 خوں فشاں ہو گیا گل نہاد حسین ابر و باد حسین
- 25 حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچا
- 26 کوئی الف لیلیٰ کا خطہ دشتوں والا غاروں والا
- 27 شام پریوں سے بھری تھی رات چپ ہے جھیل کی
- 28 مجھ کو معلوم ہے بارگاہ سخن میں بڑا کون ہے
- 29 لیے پھرتا ہے یہ آزار اپنے راستے کا
- 30 یہ دریا ہے کوئی کہ پانی پانی گفتگو ہے
- 31 دیکھا نہ کسی نے تھا ستارے پہ ستارہ
- 32 کیسے آئینے سے اس نوع کا جوہر نکلا
- 33 یہ صبح کی گھڑی ہے دعا کرنے والا ہوں
- 34 کئی سمتوں میں چلتا جا رہا ہوں
- 35 ہمارے کام رفتہ رفتہ سارے بن رہے تھے
- 36 یہ مظاہر دیکھ کر ایماں سے بھر جاتا ہوں میں
- 37 مجھ کو میری شخصیت سے با خبر کرتا ہے تو
- 38 لوگ کہتے ہیں وبا ہے یہ وبا کا وقت ہے
- 39 دل کے کعبے کو گرا دیتا ہے ڈرتا بھی نہیں
- 40 دعا کے ساتھ گیا اختیار بندے کا
- 41 میں سنتا رہتا ہوں نغمے کمال کے اندر
- 42 ہزار بار وہ بیٹھا ہزار بار اٹھا