کلامِ شاعر
- 01 اعتراف
- 02 زندگی بھر یہ بوجھ ڈھونا ہے
- 03 اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا
- 04 پھر وہی مہرباں ہوا آئی
- 05 کس بات پہ گر گئے نظر سے
- 06 رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے
- 07 پتھر سے کیا شکل نکالے یہ ہم کیا جانیں
- 08 ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو
- 09 وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
- 10 رنگ سا پھرتا ہے زیر آسماں دیکھا ہوا
- 11 ڈر یہ ہے بازوؤں میں موم کی صورت نہ پگھل جائے کہیں
- 12 صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو
- 13 غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں
- 14 تند خوئی پہ طنز کر جاؤں
- 15 زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا
- 16 نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں
- 17 دم سادھ کے دیکھوں تجھے جھپکوں نہ پلک بھی
- 18 پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے
- 19 رنگ کہتے ہیں کہانی میری
- 20 ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا
- 21 حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سے
- 22 دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے
- 23 خوف زدہ تھے کون سے لوگ ان شیر دلیروں سے
- 24 لب سیے دیکھا کروں سوچا کروں
- 25 زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے
- 26 کھلا مجھ پر در امکان رکھنا
- 27 اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی
- 28 ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا
- 29 بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے
- 30 خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں
- 31 سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو
- 32 بے وفا ہوں نہ وفادار ہوں میں
- 33 اپنے دل کا حال نہ کہنا کیسا لگتا ہے
- 34 ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں