کلامِ شاعر
- 01 یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
- 02 ماہیت
- 03 دوراہا
- 04 لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا
- 05 شہناز
- 06 اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
- 07 درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا
- 08 ناشناس
- 09 سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات
- 10 ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
- 11 میرے محبوب وطن کی گلیو!
- 12 سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا
- 13 تجدید
- 14 فگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے
- 15 کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
- 16 بنام وطن
- 17 اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
- 18 تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر
- 19 تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
- 20 ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا
- 21 ایک شام
- 22 دیدنی
- 23 وفا کیسی؟
- 24 چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
- 25 تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں
- 26 روح کی موت
- 27 آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
- 28 کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
- 29 سفر آخر شب
- 30 جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
- 31 سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
- 32 آخری بار ملو
- 33 رات سنسان ہے
- 34 ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا