کلامِ شاعر
- 01 سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا
- 02 میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں
- 03 ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
- 04 اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے
- 05 جو مسکراتے ہوئے غم چھپانا جانتا ہے
- 06 وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
- 07 وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
- 08 ۸ جنوری (۱۹۵۳)
- 09 نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے
- 10 جس کا درد بٹاؤ گے
- 11 ضبط کر اے دلِ مجرُوح کہ اِس دُنیا میں
- 12 تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
- 13 غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
- 14 لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے
- 15 بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن
- 16 چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
- 17 سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ
- 18 خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے
- 19 ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
- 20 نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں
- 21 ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
- 22 نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو
- 23 دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ
- 24 کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا
- 25 بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا
- 26 لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے
- 27 یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
- 28 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا
- 29 ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
- 30 یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
- 31 بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا
- 32 زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
- 33 اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
- 34 جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
- 35 المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
- 36 اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں