کلامِ شاعر
- 01 اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
- 02 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے
- 03 ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں
- 04 بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سے
- 05 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے
- 06 تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموش
- 07 کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کی
- 08 محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک
- 09 تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہے
- 10 اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہ (ردیف .. ے)
- 11 دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے
- 12 عجب رنگ کی مے پرستی رہی
- 13 نہ لائے تاب دید اوسان والے
- 14 بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے
- 15 ہاں یہ بدلی کالی کالی جائے گی
- 16 عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں
- 17 پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے
- 18 چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے
- 19 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی
- 20 جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلے
- 21 ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہے
- 22 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے
- 23 میرے سر سے کیا غرض سرکار کو
- 24 سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو
- 25 بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں
- 26 یا دور مرا حجاب کر دے
- 27 لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس
- 28 پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں
- 29 لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں
- 30 اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی
- 31 تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی
- 32 تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے
- 33 کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے
- 34 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی
- 35 درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی
- 36 جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں