کلامِ شاعر
- 01 میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا
- 02 یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
- 03 چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
- 04 اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
- 05 ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے
- 06 ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے
- 07 دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
- 08 اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
- 09 وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
- 10 مرحلہ رات کا جب آئے گا
- 11 اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے
- 12 تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
- 13 جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
- 14 رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
- 15 بتاؤ کیا خریدو گے
- 16 شاعری سچ بولتی ہے
- 17 فرار کی پہلی رات
- 18 مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے
- 19 بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے
- 20 تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
- 21 پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
- 22 جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے
- 23 دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے
- 24 رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
- 25 کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح
- 26 حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
- 27 تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
- 28 صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
- 29 رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
- 30 زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
- 31 وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
- 32 اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
- 33 اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
- 34 گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
- 35 رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں