کلامِ شاعر
- 01 بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں
- 02 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
- 03 ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی
- 04 عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو
- 05 سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
- 06 میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
- 07 یاد آتے ہیں بہت جان سے پیارے ہم کو
- 08 حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
- 09 ہوا نے آکے مجھے مژدہ رہائی دیا
- 10 عجیب لوگ ہیں پہلے مجھے پکارتے ہیں
- 11 اے پیاس پانیوں کو مثالی ملال دے
- 12 حضور وقت کے سائے ہیں ڈھلتے رہتے ہیں
- 13 عبا قبا کے پسِ پردہ اچھے کاموں سے
- 14 تو بھی بیٹھے گا نہیں مسندِ سلطانی پر
- 15 بہت اداس فلک ہے زمیں پریشاں ہے
- 16 جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
- 17 میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
- 18 زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی
- 19 عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
- 20 دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
- 21 چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے
- 22 پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے
- 23 چھوڑ جائیں گے یہ گھر سارے اگر لگ جائے
- 24 کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے
- 25 شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے
- 26 لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
- 27 اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
- 28 ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
- 29 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
- 30 یہ سوچتے ہوئے حیرانیوں نے مار دیا
- 31 دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں
- 32 ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے
- 33 یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں
- 34 خوں کی ترسیل میں دقت کا سبب بنتی ہو
- 35 دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے
- 36 دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے
- 37 رزق عشق فراہم باہم کیا جائے
- 38 شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے
- 39 جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے
- 40 تو مجھ سے دور چلا جائے گا ? خدا نہ کرے
- 41 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں
- 42 بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں
- 43 چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
- 44 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر
- 45 جہاں پہ پینے پلانے کا اہتمام نہ ہو
- 46 آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا
- 47 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
- 48 گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے
- 49 شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے