کلامِ شاعر
- 01 بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال
- 02 مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں
- 03 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن
- 04 ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے
- 05 ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں
- 06 پڑھ کے دیکھو قرار ہے اردو
- 07 دوستوں میں شمار کس کا ہے
- 08 پھر محبت سے دل کو پکارا گیا
- 09 محبت پہ گزارا ہے مسلسل
- 10 بے خودی بے حساب کی میں نے
- 11 تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں
- 12 جب سے ہم مسکرانا بھول گئے
- 13 آج تھوڑا سا مسکرانے دے
- 14 سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا
- 15 نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو
- 16 سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں
- 17 مفلسی بے حساب لایا ہوں
- 18 اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے
- 19 زندگی ایسے کھلے دل سے لٹائی میں نے
- 20 جو یہاں حق کی بات کر جائے
- 21 خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو
- 22 ہے دعا یہ سبھی کا بھلا خیر ہو
- 23 شوق اپنے سبھی نرالے ہیں
- 24 عشق سر پہ سوار تھا یارو
- 25 اپنے جنگل کا حال بدلا ہے
- 26 جب جنوں سارے اتر جائیں گے
- 27 جب کبھی دوست مہربان ہوئے
- 28 جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا
- 29 بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں
- 30 اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے
- 31 دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
- 32 کس کی آخر یہ انتطاری ہے
- 33 پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط
- 34 کیا یہاں مسئلے سناؤں گا
- 35 دشت ویران ہے ہوس مارا
- 36 یہ بہانہ نہیں با خدا عید ہے
- 37 گماں
- 38 شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی
- 39 کیا کسی سے بھلا شکایت ہو
- 40 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے
- 41 بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا
- 42 اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو
- 43 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
- 44 میری آواز صدا سے خالی
- 45 یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا
- 46 آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں
- 47 میں زمینی میں آسمانی ہوں
- 48 عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے
- 49 بات بے بات غزل کہتے ہیں
- 50 چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں
- 51 زندگانی حسین ہے تو سہی
- 52 جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں
- 53 مجھ سے کہتے ہو کر حسین کی بات
- 54 کچھ اس طرح سے میں زندہ رہا تمہارے بعد
- 55 مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
- 56 اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں
- 57 خود سے ہی مذاق کر گیا میں
- 58 قافیہ زندگی ہے سانس ردیف
- 59 میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی
- 60 حسن سالار کو زبان ملی
- 61 دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے
- 62 جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر
- 63 آپ اتنا تو اپنا خسارہ کریں
- 64 ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے