کلامِ شاعر
- 01 ایک لمبی گونج
- 02 لہروں کا آتش فشاں
- 03 گوڈو
- 04 خوف
- 05 دیمک
- 06 نئی جستجو کا المیہ
- 07 جہنم
- 08 ریت اور درد
- 09 یہ رات
- 10 ٹوٹے شیشے کی آخری نظم
- 11 بے خوابی کی تیسری شب
- 12 نروان
- 13 خامشی
- 14 دھرتی کا بوجھ
- 15 اس نے کہا!
- 16 ہمارے بعد
- 17 سزا
- 18 بہت ہے ایک نظر
- 19 الوداع
- 20 میرا جنم دن
- 21 لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا
- 22 محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے
- 23 دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!
- 24 بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن
- 25 کوئی حرف نفی نہ کام آیا (ردیف .. ی)
- 26 برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں
- 27 ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے
- 28 اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں (ردیف .. ا)
- 29 کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں
- 30 عشق کی ساری باتیں اے دل پاگل پن کی باتیں ہیں
- 31 اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے
- 32 بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!
- 33 وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے
- 34 کون بھلا یہ کہتا ہے خود آ کے ہم کو منائیں آپ
- 35 تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے
- 36 سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!
- 37 فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے (ردیف .. ا)
- 38 عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!
- 39 میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے
- 40 گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے
- 41 اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں
- 42 دشت وفا میں ٹھوکریں کھانے کا شوق تھا
- 43 ہزار چاہا لگائیں کسی سے دل لیکن (ردیف .. ا)
- 44 کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے
- 45 چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو
- 46 خبر سنے گا مری موت کی تو خوش ہوگا
- 47 دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں
- 48 بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے
- 49 کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)
- 50 اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے (ردیف .. ن)
- 51 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا
- 52 درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے
- 53 جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا
- 54 چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں