کلامِ شاعر
- 01 شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا
- 02 ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے
- 03 آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
- 04 بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
- 05 سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
- 06 کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
- 07 اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
- 08 یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
- 09 مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
- 10 باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے
- 11 ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
- 12 وقت پیری شباب کی باتیں
- 13 رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
- 14 ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی
- 15 تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
- 16 لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
- 17 قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
- 18 اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
- 19 مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
- 20 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
- 21 چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
- 22 جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
- 23 مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
- 24 اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
- 25 نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
- 26 خوب روکا شکایتوں سے مجھے