کلامِ شاعر
- 01 زلفیں سینہ ناف کمر
- 02 زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
- 03 زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نے
- 04 ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا
- 05 زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے
- 06 وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں
- 07 وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں
- 08 افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے
- 09 تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے
- 10 تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتے
- 11 تم پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یارو
- 12 طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذرا
- 13 تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
- 14 صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں
- 15 سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
- 16 رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے
- 17 مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوں
- 18 مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا
- 19 موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے
- 20 میکشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں
- 21 مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہے
- 22 لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
- 23 لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہم
- 24 خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے
- 25 جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو
- 26 جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
- 27 حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نے
- 28 ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے
- 29 ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
- 30 ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
- 31 ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر
- 32 دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہم
- 33 دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا
- 34 چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے
- 35 بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہے
- 36 اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
- 37 اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں میں
- 38 اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے
- 39 آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں
- 40 آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں
- 41 آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
- 42 آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر