کلامِ شاعر
- 01 محبت نہیں تو جیا جائے نا
- 02 یہ مانتا ہوں بات خدا کی خدا کے ساتھ
- 03 اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا
- 04 ہمارے خاکے اڑا اڑا کر وہ اپنا نقشہ جما رہے ہیں
- 05 حیات عشق کا اک سرمدی پیام آیا
- 06 جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے
- 07 تمہارے جلوے چھپے ہیں کہیں چھپانے سے
- 08 جنوں میں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مقام حیرت کی گفتگو ہے
- 09 جہاں حضور کی محسوس کی کمی میں نے
- 10 وہی کچھ حسن کے جلووں کا پورا لطف پاتے ہیں
- 11 مجھے دے رہے ہیں تسکیں وہ مذاق غم بدل کر
- 12 سو بار ہوئی دل کی بری طرح تباہی
- 13 یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے
- 14 غمزۂ حسن کی قسم تیرا کرم کہاں نہیں
- 15 بیت الحرم کے ساتھ نہ بیت الصنم کے ساتھ
- 16 ہر اک اعتبار سے آج تک ہوں فقط فریب خیال میں
- 17 اک بار ہو تو جائے محبت کسی کے ساتھ
- 18 رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نے
- 19 ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے
- 20 دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے
- 21 ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی
- 22 ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے
- 23 جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا
- 24 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے
- 25 بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے
- 26 ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہے
- 27 مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں
- 28 نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا
- 29 نام ہوا بدنام کسی کا
- 30 تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات
- 31 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے
- 32 لٹے نہ کیوں دل کونین یا غریب نواز
- 33 جلوۂ یار نے کچھ ایسی ادا پائی ہے
- 34 کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جانِ جہاں منظور نہیں
- 35 تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے
- 36 بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو
- 37 محبت کی پہلی نظر اللہ اللہ