کلامِ شاعر
- 01 میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھا
- 02 اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا
- 03 میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو
- 04 کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
- 05 کون اس تیغ ستم گر سے بچا
- 06 پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
- 07 رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
- 08 رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے
- 09 ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ
- 10 باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا
- 11 میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
- 12 یوں سمجھ لو کہ بجز نام خدا کچھ نہ رہا
- 13 اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہے
- 14 اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیے
- 15 رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
- 16 یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہے
- 17 چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
- 18 چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھا
- 19 جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
- 20 گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
- 21 زمانے بھر کی ذلت سامنے تھی
- 22 منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا
- 23 وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہے
- 24 جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئی
- 25 کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں
- 26 بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا
- 27 دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا
- 28 دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے
- 29 نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا
- 30 دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں
- 31 امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں
- 32 یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا
- 33 ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا
- 34 کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا
- 35 دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیا
- 36 یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے
- 37 کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیا
- 38 خواہش تخت و تاج اور ہے کچھ
- 39 کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں
- 40 ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا
- 41 کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
- 42 ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں
- 43 اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا