کلامِ شاعر
- 01 چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا
- 02 سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
- 03 سود و زیاں
- 04 اپنے سوالوں کے جواب میں
- 05 ایک دعا
- 06 نظر سے دور حقیقت رہی کئی برسوں
- 07 ہر ایک مسرت کو فردا پہ اٹھا رکھا
- 08 کتنے انجان جزیروں میں مجھے لے کے چلا
- 09 ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا
- 10 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں
- 11 ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیں
- 12 چلتی رہتی ہے تسلسل سے جنوں خیز ہوا
- 13 روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو
- 14 ساتھ میرے دل تباہ تو ہے
- 15 دل میں خوں اور آنکھ میں پانی بہت
- 16 وہ تو آئینہ نما تھا مجھ کو
- 17 ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیں
- 18 سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی
- 19 موسم کے پاس کوئی خبر معتبر بھی ہو
- 20 دوستوں کا ذکر کیا دشمن ہیں جب بدلے ہوئے
- 21 اکثر اپنے در پئے آزار ہو جاتے ہیں ہم
- 22 رسوائی کا بھی ہم پر الزام ضروری تھا
- 23 بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیں
- 24 اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیں
- 25 کانٹے چبھتے ہیں چبھیں پاؤں میں چلتے جائیں
- 26 منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے
- 27 ان کی شرمندۂ احسان سی ہو جاتی ہے
- 28 یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
- 29 سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم
- 30 در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں
- 31 بدل چکی ہے ہر اک یاد اپنی صورت بھی
- 32 مرا جینا گواہی دے رہا ہے
- 33 بات ایما و اشارت سے بڑھی آپ ہی آپ
- 34 آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا
- 35 مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو
- 36 یوں تو طے ہو بھی چکا ترک محبت کرنا
- 37 سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے
- 38 سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی
- 39 گئے برس کی یہی بات یادگار رہی
- 40 وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا
- 41 اب مجھ کو کیا خبر وہ یہاں ہے بھی یا نہیں
- 42 بے وفا سے سوال کیا کرنا
- 43 بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے
- 44 ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کی
- 45 کتنے آسان راستے ہوتے
- 46 تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
- 47 اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو
- 48 قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے
- 49 سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں
- 50 دور ہوا ابہام کہانی ختم ہوئی
- 51 نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
- 52 ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا
- 53 تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں
- 54 ہم تو گواہ ہیں کہ غلط تھا لکھا گیا
- 55 دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں
- 56 مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں
- 57 ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے
- 58 منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے