کلامِ شاعر
- 01 لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں
- 02 لائی تری محفل میں مجھے آرزوئے دید
- 03 تمہیں بتاؤ پکارا ہے بار بار کسے
- 04 نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا
- 05 جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں
- 06 بہار آئی گل افشانیوں کے دن آئے
- 07 چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے
- 08 لطف کا ربط ہے کوئی نہ جفا کا رشتہ
- 09 شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے
- 10 جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں
- 11 ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح
- 12 وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کر
- 13 سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا
- 14 شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے
- 15 دل وہ کافر کہ صدا عیش کا ساماں مانگے
- 16 ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں
- 17 بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت
- 18 یہ ہجوم رسم و رہ دنیا کی پابندی بھی ہے
- 19 شوق کے خواب پریشاں کی ہیں تفسیریں بہت
- 20 ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہو
- 21 مری صہبا پرستی مورد الزام ہے ساقی
- 22 ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو
- 23 داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرف
- 24 چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے
- 25 سر تا بہ قدم ایک حسیں راز کا عالم
- 26 شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے
- 27 ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی
- 28 کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے
- 29 گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے
- 30 وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست
- 31 رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے
- 32 جلوہ پابند نظر بھی ہے نظر ساز بھی ہے
- 33 دور طوفاں میں بھی جی لیتے ہیں جینے والے (ردیف .. ح)
- 34 منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا
- 35 کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں
- 36 قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا
- 37 زندگی دل پہ عجب سحر سا کرتی جائے
- 38 ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت