کلامِ شاعر
- 01 بت بے درد کا غم مونس ہجراں نکلا
- 02 کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
- 03 سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا
- 04 پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں
- 05 گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر
- 06 تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
- 07 جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے
- 08 مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا
- 09 روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں
- 10 محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے
- 11 آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
- 12 چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
- 13 ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا
- 14 اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
- 15 عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی
- 16 آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے
- 17 چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیں
- 18 تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا
- 19 دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
- 20 روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
- 21 نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
- 22 خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
- 23 محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک
- 24 چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
- 25 چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
- 26 ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
- 27 اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
- 28 بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
- 29 درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
- 30 وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے