کلامِ شاعر
- 01 وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھا
- 02 شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
- 03 اپنا تو خیر نامۂ اعمال لے گئے
- 04 آئی ہے میری سمت صدا ور دور سے
- 05 آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ
- 06 چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگے
- 07 میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا
- 08 آتش و انجماد ہے مجھ میں
- 09 بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
- 10 رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا
- 11 بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
- 12 کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے
- 13 دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ
- 14 لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے
- 15 نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
- 16 گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
- 17 یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود
- 18 دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے
- 19 جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے
- 20 نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
- 21 یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
- 22 کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا
- 23 یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
- 24 زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں
- 25 خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
- 26 فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے
- 27 خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے
- 28 رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
- 29 ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم
- 30 ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
- 31 اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
- 32 ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
- 33 ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا
- 34 یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
- 35 خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
- 36 جیسے تیسے رہ جاتا ہے