کلامِ شاعر
- 01 زرد خوشبو
- 02 تکون کا کرب
- 03 سرحد کون و مکاں سے لا مکاں لے جائے گا
- 04 بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی
- 05 خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں
- 06 دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک
- 07 سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا
- 08 ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا
- 09 خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا
- 10 کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے
- 11 ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں
- 12 ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
- 13 جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر
- 14 لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی
- 15 کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو
- 16 وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا
- 17 بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا
- 18 میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے
- 19 ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے
- 20 کس نے صدا دی کون آیا ہے
- 21 آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا
- 22 میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں
- 23 پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں
- 24 وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا
- 25 ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا
- 26 دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج
- 27 اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا
- 28 آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے
- 29 تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے
- 30 تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں
- 31 عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر
- 32 میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں
- 33 گو مرا ساتھ مری اپنی نظر نے نہ دیا
- 34 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا