کلامِ شاعر
- 01 کہف القحط
- 02 ’’اٹلانٹک سٹی‘‘
- 03 سمیتا پاٹل
- 04 دعا اور بد دعا کے درمیاں
- 05 اونچے درجے کا سیلاب
- 06 زندگی
- 07 ایک ذاتی نظم
- 08 تضاد
- 09 وعدے یخ بستہ کمروں کے اندر گرتے ہیں
- 10 کچھ بے ترتیب ستاروں کو پلکوں نے کیا تسخیر تو کیا
- 11 سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا
- 12 یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا
- 13 بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں
- 14 ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا
- 15 پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہا
- 16 سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو
- 17 گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
- 18 رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا
- 19 پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا
- 20 سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں
- 21 یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی
- 22 پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا
- 23 اپنے اشعار کو رسوا سر بازار کروں
- 24 آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کر
- 25 خاموش تھے تم اور بولتا تھا بس ایک ستارہ آنکھوں میں
- 26 لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں
- 27 کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
- 28 خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں
- 29 عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے
- 30 وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
- 31 بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا
- 32 ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے
- 33 رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا
- 34 سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا
- 35 آنکھ سے بچھڑے کاجل کو تحریر بنانے والے
- 36 ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی
- 37 ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آ
- 38 محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
- 39 اکیلا دن ہے کوئی اور نہ تنہا رات ہوتی ہے
- 40 ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیں
- 41 پہلے اک شخص میری ذات بنا
- 42 بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے
- 43 یاد اشکوں میں بہا دی ہم نے
- 44 گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے
- 45 نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
- 46 کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے
- 47 بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
- 48 شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
- 49 کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
- 50 بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا