کلامِ شاعر
- 01 تجھ سے ناراض نہیں زندگی
- 02 زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
- 03 ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا
- 04 ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں
- 05 وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا
- 06 تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
- 07 تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی
- 08 شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
- 09 شام سے آج سانس بھاری ہے
- 10 سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے
- 11 صبر ہر بار اختیار کیا
- 12 رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
- 13 پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
- 14 پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی
- 15 پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں
- 16 اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر
- 17 مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتا
- 18 کوئی خاموش زخم لگتی ہے
- 19 کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید
- 20 خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
- 21 کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں
- 22 کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے
- 23 کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
- 24 جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے
- 25 جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے
- 26 ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہے
- 27 ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیے
- 28 ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے
- 29 ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
- 30 گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
- 31 گرم لاشیں گریں فصیلوں سے
- 32 ایک پرواز دکھائی دی ہے
- 33 دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
- 34 دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی
- 35 درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے
- 36 بیتے رشتے تلاش کرتی ہے
- 37 بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
- 38 ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
- 39 آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں