کلامِ شاعر
- 01 یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
- 02 وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ
- 03 وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
- 04 تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
- 05 ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
- 06 ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے
- 07 تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
- 08 صحبت غیر موں جایا نہ کرو
- 09 شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم
- 10 شغل بہتر ہے عشق بازی کا
- 11 سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ
- 12 روح بخشی ہے کام تجھ لب کا
- 13 مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے
- 14 مفلسی سب بہار کھوتی ہے
- 15 مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا
- 16 میں تجھے آیا ہوں ایماں بوجھ کر
- 17 میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں
- 18 کوچۂ یار عین کاسی ہے
- 19 کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
- 20 خوب رو خوب کام کرتے ہیں
- 21 کمر اس دل ربا کی دل ربا ہے
- 22 جسے عشق کا تیر کاری لگے
- 23 جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے
- 24 جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا
- 25 جب صنم کوں خیال باغ ہوا
- 26 عشق میں صبر و رضا درکار ہے
- 27 عشق بیتاب جاں گدازی ہے
- 28 ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
- 29 ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
- 30 فدائے دلبر رنگیں ادا ہوں
- 31 دل طلب گار ناز مہوش ہے
- 32 دل کوں تجھ باج بے قراری ہے
- 33 دل ہوا ہے مرا خراب سخن
- 34 دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
- 35 چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
- 36 بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
- 37 اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
- 38 عاشق کے مکھ پہ نین کے پانی کو دیکھ توں
- 39 آج سر سبز کوہ و صحرا ہے
- 40 آج دستا ہے حال کچھ کا کچھ