کلامِ شاعر
- 01 اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام
- 02 ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا
- 03 ایک نامقبول قربانی ہوں میں
- 04 رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں
- 05 مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے
- 06 دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر
- 07 اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
- 08 جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو
- 09 دوستوں کے نام یاد آنے لگے
- 10 میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا
- 11 جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
- 12 دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات
- 13 خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے
- 14 آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی
- 15 بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا
- 16 ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے
- 17 آگہی میں اک خلا موجود ہے
- 18 مے کدہ تھا چاندنی تھی میں نہ تھا
- 19 زخم دل کے اگر سیے ہوتے
- 20 کبھی اتنی زحمت تو فرمائیے گا
- 21 خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
- 22 نشاط دل ہے یا تسکین جاں ہے
- 23 نظر اس نے جب برملا ڈال دی
- 24 فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں
- 25 خرد کی انتہا ہے اور میں ہوں
- 26 نہیں لطف ساقی کسی بات میں
- 27 کیوں رنگ اڑ رہا ہے دل بے قرار کا
- 28 ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا
- 29 کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست
- 30 عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو
- 31 دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
- 32 دیکھ کر دل کشی زمانے کی
- 33 تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
- 34 وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
- 35 زلف برہم سنبھال کر چلئے
- 36 دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
- 37 ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا
- 38 اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
- 39 آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا
- 40 مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
- 41 کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
- 42 مسکرا کر خطاب کرتے ہو
- 43 ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی
- 44 خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
- 45 ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
- 46 ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
- 47 جب ترے نین مسکراتے ہیں
- 48 وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
- 49 لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا