کلامِ شاعر
- 01 کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
- 02 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
- 03 یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
- 04 یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
- 05 یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
- 06 وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
- 07 وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
- 08 تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
- 09 تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
- 10 تری امید ترا انتظار جب سے ہے
- 11 ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
- 12 شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
- 13 شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
- 14 سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
- 15 سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
- 16 رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
- 17 راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
- 18 قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم
- 19 پھر حریف بہار ہو بیٹھے
- 20 نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
- 21 نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
- 22 نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
- 23 نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
- 24 کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
- 25 کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
- 26 کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
- 27 کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں
- 28 کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
- 29 کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے
- 30 عشق منت کش قرار نہیں
- 31 ہمت التجا نہیں باقی
- 32 ہر حقیقت مجاز ہو جائے
- 33 ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
- 34 ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
- 35 ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
- 36 ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے
- 37 حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
- 38 گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
- 39 گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
- 40 گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
- 41 دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
- 42 دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
- 43 دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
- 44 چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
- 45 چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا
- 46 بات بس سے نکل چلی ہے
- 47 اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
- 48 اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
- 49 اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
- 50 ''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''
- 51 آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا
- 52 آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے