کلامِ شاعر
- 01 قلب و نظر پہ آپ ستم ڈھا کے چل دئے
- 02 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی
- 03 غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میں
- 04 میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں
- 05 تم سے شکایت کیا کروں
- 06 تم یاد مجھے آ جاتے ہو
- 07 جلوہ بس روئے جلوہ گر تک ہے
- 08 کہنے کو ہوں ضرور غم دو جہاں سے دور
- 09 نصیب جب اثر رنگ بوستاں نہ ہوا
- 10 تصور میں کوئی پھر آ رہا ہے
- 11 روح روان نغمہ تم نغموں کا سوز و ساز میں
- 12 اپنی نئی زمین نیا آسماں رہے
- 13 ہر شے کو مرے دل سے بھلاتے ہوئے آتے
- 14 باتیں نہ کرے کیوں دل ناشاد تمہاری
- 15 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں
- 16 کوئی چشم و نظر سے دور کیوں ہے
- 17 محبت کی میں زندگی بن گیا ہوں
- 18 نہ یہ پوچھو کہ کیا یاد آ رہا ہے
- 19 بسر ہم عجب زندگی کر رہے ہیں
- 20 تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا
- 21 شب تھی نظر میں شام سے پہلے
- 22 فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی
- 23 جو وہ بزم میں بے نقاب آ گیا
- 24 منزل کی جستجو تھی پہ منزل نہ مل سکی
- 25 محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے
- 26 دل میرا تیرا تابع فرماں ہے کیا کروں
- 27 ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے
- 28 چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہے
- 29 آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا
- 30 ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوں
- 31 اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا
- 32 ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں
- 33 لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی
- 34 خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں
- 35 تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے
- 36 تمہارے حسن کی تسخیر عام ہوتی ہے
- 37 مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں
- 38 خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملا
- 39 ترے عشق میں زندگانی لٹا دی
- 40 یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے
- 41 زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
- 42 اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا
- 43 کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں
- 44 دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
- 45 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے