کلامِ شاعر
- 01 الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
- 02 میں تو کہتا تھا
- 03 جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟
- 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
- 05 شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
- 06 ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن
- 07 خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا
- 08 میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا
- 09 ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
- 10 زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
- 11 زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
- 12 یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
- 13 یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
- 14 وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
- 15 اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
- 16 اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
- 17 ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
- 18 سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
- 19 سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
- 20 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
- 21 پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
- 22 نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
- 23 میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
- 24 میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
- 25 میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
- 26 معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
- 27 لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
- 28 کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
- 29 خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
- 30 خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
- 31 کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
- 32 جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
- 33 جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
- 34 جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
- 35 اتنی مدت بعد ملے ہو
- 36 ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
- 37 ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
- 38 ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
- 39 غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
- 40 فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
- 41 ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
- 42 بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
- 43 بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
- 44 بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
- 45 عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
- 46 اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
- 47 عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
- 48 اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
- 49 اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
- 50 اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
- 51 اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
- 52 آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم