کلامِ شاعر
- 01 پڑتی ہے آ کے جان پر آخر بلائے دل
- 02 بس اب آپ تشریف لے جائیے
- 03 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں
- 04 ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا
- 05 دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے
- 06 قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت
- 07 عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا
- 08 اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز
- 09 صدمے گزرے ایذا گزری
- 10 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے
- 11 نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے
- 12 چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ
- 13 حیران سی ہے بھچک رہی ہے
- 14 مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے
- 15 الفت نہ کروں گا اب کسی کی
- 16 تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا
- 17 تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے
- 18 وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے
- 19 چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے
- 20 رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو
- 21 یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ
- 22 دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے
- 23 نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری
- 24 زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے
- 25 آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا
- 26 خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے
- 27 اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا
- 28 ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
- 29 کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد
- 30 توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا
- 31 نہیں قول سے فعل تیرے مطابق
- 32 مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی
- 33 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
- 34 گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں
- 35 زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا
- 36 جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے
- 37 چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو
- 38 آج انکار نہ فرمائیے آپ
- 39 دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا
- 40 سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا