کلامِ شاعر
- 01 انتقام
- 02 موسم مرے دل کے
- 03 روشنی
- 04 تنہائی
- 05 وداع
- 06 ملاقات
- 07 زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005
- 08 انتظار
- 09 خزاں پھر آ گئی کیا
- 10 ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں
- 11 خزاں موسم نہیں ہے
- 12 عشق کہانی
- 13 مقتل میں مکالمہ
- 14 یاد رکھنے کا ہنر
- 15 کیا ہے جو قرض شہر جاں آج ادا ہو یا نہ ہو
- 16 میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے
- 17 جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعد
- 18 شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئی
- 19 خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم
- 20 زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیا
- 21 دن گزرتے ہیں جو اندیشہ و افکار کے ساتھ
- 22 زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں
- 23 اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کون
- 24 میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے
- 25 نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے
- 26 جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے
- 27 عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیا
- 28 عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے
- 29 ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں
- 30 ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون
- 31 روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہے
- 32 لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے
- 33 اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر
- 34 یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں
- 35 کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا
- 36 خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو
- 37 مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیں
- 38 گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں
- 39 حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو
- 40 عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں
- 41 کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتا
- 42 آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہم
- 43 نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریے
- 44 دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا
- 45 لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی
- 46 چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے
- 47 زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے
- 48 وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میں
- 49 یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام
- 50 یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہے
- 51 کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں
- 52 ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی
- 53 درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے
- 54 کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا
- 55 سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے
- 56 اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے
- 57 اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے
- 58 چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے
- 59 ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں
- 60 کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا
- 61 اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی
- 62 خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
- 63 زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو
- 64 بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے
- 65 میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوں
- 66 غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں